سورۃ عبس | سورہ نمبر 80

سورۃ عبس

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
اس نے تیوری چڑھائی اور منہ موڑ لیا
اس لئے کہ اس کے پاس نابینا آیا
اور تجھے کیا خبر شاید وہ سدھر جائے
یا نصیحت پر دھیان دے تو نصیحت اس کو فائدہ دے
لیکن جو بے پروائی کرتا ہے
تو اس کی طرف تو توجہ کرتا ہے
حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تجھ پر کچھ الزام نہیں
اور جو تیرے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے
اور وہ ڈرتا ہے
تو اس سے تو بے رخی کرتا ہے
ہرگز ایسا نہ کرنا، یہ تو نصیحت ہے
تو جو چاہے اسے یاد رکھے
یہ ایسے صحیفوں میں ہے جو معتبر ہیں
بلند و بالا اور پاک ہیں
لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں
جو معزز اور نیک ہیں
لعنت ہو انسان پر، کیسا ناشکرا ہے
اللہ نے اس کو کس چیز سے پیدا کیا
نطفہ سے اس کو پیدا کیا، پھر اس کا اندازہ مقرر کیا
پھر اس کے لئے رستہ آسان کر دیا
پھر اس کو موت دی، پھر اس کو قبر میں رکھا
پھر جب چاہے اس کو اٹھا کھڑا کرے
ہرگز ایسا نہیں، اس نے تو جو حکم دیا اسے پورا نہ کیا
تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے
کہ ہم نے پانی برسایا
پھر ہم نے زمین کو اچھی طرح چیرا
پھر ہم نے اس میں اناج اگایا
اور انگور اور ترکاریاں
اور زیتون اور کھجور
اور گھنے باغ
اور میوے اور چارہ
تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدے کے لئے
پھر جب کانوں کو بہرا کرنے والی آئے گی
اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے
اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے
ان میں سے ہر شخص کو اس دن اتنی فکر ہوگی کہ جو اس کے لئے کافی ہو
بعض چہرے اس دن چمکتے ہوں گے
ہنستے اور خوش باش ہوں گے
اور بعض چہرے اس دن گرد آلود ہوں گے
ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی
یہ کافر اور بدکردار ہیں
Previous Post Next Post