سورۃ عبس
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
اس نے تیوری چڑھائی اور منہ موڑ لیا■
اس لئے کہ اس کے پاس نابینا آیا■
اور تجھے کیا خبر شاید وہ سدھر جائے■
یا نصیحت پر دھیان دے تو نصیحت اس کو فائدہ دے■
لیکن جو بے پروائی کرتا ہے■
تو اس کی طرف تو توجہ کرتا ہے■
حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تجھ پر کچھ الزام نہیں■
اور جو تیرے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے■
اور وہ ڈرتا ہے■
تو اس سے تو بے رخی کرتا ہے■
ہرگز ایسا نہ کرنا، یہ تو نصیحت ہے■
تو جو چاہے اسے یاد رکھے■
یہ ایسے صحیفوں میں ہے جو معتبر ہیں■
بلند و بالا اور پاک ہیں■
لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں■
جو معزز اور نیک ہیں■
لعنت ہو انسان پر، کیسا ناشکرا ہے■
اللہ نے اس کو کس چیز سے پیدا کیا■
نطفہ سے اس کو پیدا کیا، پھر اس کا اندازہ مقرر کیا■
پھر اس کے لئے رستہ آسان کر دیا■
پھر اس کو موت دی، پھر اس کو قبر میں رکھا■
پھر جب چاہے اس کو اٹھا کھڑا کرے■
ہرگز ایسا نہیں، اس نے تو جو حکم دیا اسے پورا نہ کیا■
تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے■
کہ ہم نے پانی برسایا■
پھر ہم نے زمین کو اچھی طرح چیرا■
پھر ہم نے اس میں اناج اگایا■
اور انگور اور ترکاریاں■
اور زیتون اور کھجور■
اور گھنے باغ■
اور میوے اور چارہ■
تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدے کے لئے■
پھر جب کانوں کو بہرا کرنے والی آئے گی■
اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا■
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے■
اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے■
ان میں سے ہر شخص کو اس دن اتنی فکر ہوگی کہ جو اس کے لئے کافی ہو■
بعض چہرے اس دن چمکتے ہوں گے■
ہنستے اور خوش باش ہوں گے■
اور بعض چہرے اس دن گرد آلود ہوں گے■
ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی■
یہ کافر اور بدکردار ہیں■
© Translation: Fateh Mohammad Jalandhri
This translation is copyright free and free of any restrictions.