سورۃ القلم | سورۃ 68

سورۃ القلم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
نٓ ۚ قسم ہے قلم کی اور اس کے ذریعہ سے لکھنے والوں کی1
تم اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہو2
اور یقیناً آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے3
اور بے شک آپ عظیم اخلاق پر ہیں4
پس عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے5
کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے6
بے شک آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو7
پس آپ جھٹلانے والوں کا کہنا نہ مانیں8
وہ تو چاہتے ہیں کہ آپ کچھ نرم ہو جائیں تو وہ بھی نرم ہو جائیں9
اور آپ کسی ایسے شخص کی بات نہ مانیں جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت ہے10
عیب جو، چغلیاں کرنے والا11
بھلائی سے روکنے والا، حد سے بڑھنے والا گناہگار ہے12
جفا کار، اور بدنام ہے13
(اس کے باوجود) وہ مالدار اور بیٹوں والا ہے14
جب اس پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں15
عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے16
بے شک ہم نے ان کو اسی طرح جانچا جس طرح ہم نے باغ والوں کو جانچا تھا جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ صبح ہوتے ہی اپنے باغ کا پھل توڑ لیں گے17
اور انہوں نے اس میں کچھ بھی استثناء نہ کیا تھا18
پھر ان پر تمہارے رب کی طرف سے راتوں رات ایک آفت آ گئی جب وہ سوئے ہوئے تھے19
پس وہ ایسا ہو گیا جیسے کٹا ہوا کھیت20
پھر صبح کو انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا21
کہ اگر تم نے کچھ پھل توڑنا ہے تو اپنے باغ کی طرف صبح سویرے نکل چلو22
پس وہ چل پڑے اور وہ چپکے چپکے کہہ رہے تھے23
کہ آج تمہارے پاس کوئی مسکین نہ آنے پائے24
اور وہ صبح سویرے (یہ ارادہ کر کے) گئے کہ وہ اس پر قدرت رکھنے والے ہیں25
پس جب انہوں نے اسے دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم تو راہ بھول گئے ہیں26
بلکہ ہم تو محروم ہیں27
ان کا درمیانی آدمی بولا، کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے28
انہوں نے کہا کہ ہمارا رب پاک ہے بے شک ہم ہی ظالم تھے29
پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر ملامت کرنے لگے30
کہنے لگے ہائے ہماری شامت بے شک ہم سرکش تھے31
بیشک ہمارا رب بدلہ دینے والا ہے ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو اس سے بہتر بدلہ دے32
ایسا عذاب ہے اور بے شک آخرت کا عذاب زیادہ بڑا ہے اگر وہ جانتے33
بے شک پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے ہاں نعمت والے باغات ہیں34
کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرح کر دیں گے35
تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسے حکم لگاتے ہو36
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو37
کہ تمہارے لیے اس میں وہ سب کچھ ہے جو تم پسند کرتے ہو38
یا تمہارے لیے ہم پر کوئی قسمیں ہیں جو قیامت تک باقی رہیں39
کہ بے شک تم کو وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ گے40
ان سے پوچھو ان میں سے کون اس کا ذمہ دار ہے41
یا ان کے کچھ شریک ہیں تو وہ اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر وہ سچے ہیں42
جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدہ کے لیے بلائے جائیں گے تو وہ سجدہ نہ کر سکیں گے43
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہو گی حالانکہ وہ سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے جب وہ صحیح سالم تھے44
سو مجھے اس کلام کو جھٹلانے والوں سے چھوڑ دو ہم ان کو اس طرح پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہو گی45
اور میں انہیں ڈھیل دے رہا ہوں بے شک میری تدبیر مضبوط ہے46
کیا تم ان سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت مانگتے ہو کہ وہ تاوان کے بوجھ سے دبے جاتے ہوں47
کیا ان کے پاس غیب کے خزانے ہیں کہ وہ لکھتے جاتے ہیں48
پس آپ اپنے رب کے حکم کا صبر سے انتظار کریں اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جائیں جب اس نے پکارا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا49
اگر اس کے رب کی مہربانی اس کو نہ آ جاتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا اور وہ ملامت زدہ ہوتا50
پھر اس کے رب نے اسے چن لیا اور اسے نیک باندھ دیا51
اور بے شک یہ لوگ جب نصیحت سنتے ہیں تو اسے جھٹلاتے ہیں52
Previous Post Next Post