رات اندھیروں میں
سایہ میرے ساتھ چل رہا تھا
قدم اندھیرے میں سرگوشیاں کرتے
چاندی کے ساتھ چل رہے تھے
آنکھیں چمک رہی تھیں وحشت سے
آبنوس کے تاروں کی طرح
اندھیرے کی چادر میں
کوئی جاسوسی کے لئے نکلا تھا
ایک عجیب نظارے نے جنم لیا
تیز بادل پاتال کی طرح
میرے سر پے منڈلانے لگے
سیاہ موسم میں اک شکاری
کام نمٹانے کی کوشش میں تھا
کہ
رات کے اندھیرے میں
کالی بلی میرا رستہ کاٹ گئی
میں بھاگنے کی کوشش میں تھا
میری ایک قیمتی شے
رستے کی دیوار پھلانگتے ہوئے
زمیں پر گری رہ گئی
میرے کان نے فائر کی آواز سنی
تو میری آنکھ کھل گئی
عظیم اسلام
~AZEEM ISLAM